سینٹکام نے منگل کی شب جاری ایک بیان میں کہا، "امریکی مرکزی کمان اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے 28 جولائی کو عراق میں ایران سے وابستہ ان گروپ کے خلاف ہدفی حملے کیے، جنہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے امریکی فوج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ہدایت دی تھی۔"
بیان کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں اسلحہ اور رسد کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آئی آر جی سی کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "سعودی عرب کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، لیکن اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔"
پیر کے روز سعودی وزارتِ دفاع نے ایران نواز شیعہ ملیشیا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ملک کے مشرقی علاقے اور دارالحکومت کے صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی۔
تاہم اسلامی مزاحمت فی العراق سے وابستہ شیعہ گروہوں نے سعودی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں اپنے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یمن کی انصار اللہ تحریک (حوثی) کی ذمہ داری تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ مؤثر جوابی کارروائی نہیں کر سکے گا۔
یمن کی انصار اللہ تحریک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک تیل پہنچانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
منگل کو سعودی وزارتِ دفاع نے ایک اور بیان میں کہا کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے عراق کی سمت سے آنے والے نئے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا، جن کا ہدف ملک کے مشرقی حصے میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں۔
