راہل گاندھی نے ہفتہ کو لکھے گئے اس خط کو اتوار کے روز عوامی کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ایک منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن ان کی بات سننے کے بجائے سکیورٹی فورسز نے ان پر اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس کارروائی میں پیلٹ گن، آنسو گیس اور دیگر مہلک ذرائع استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں طلبہ شدید زخمی ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں جان بوجھ کر ذاتی طور پر نشانہ بنایا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ سب سے سنگین الزام پیلٹ گن کے استعمال کا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد، جن میں ایک صحافی بھی شامل ہے، پیلٹ گن لگنے سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے 19 سالہ ساحل لوچاب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید تکلیف میں ہے اور پیلٹ گن لگنے کے باعث اس کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں تعینات سکیورٹی فورسز بالآخر وزیر داخلہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ کیا وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے طلبہ کے خلاف پیلٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی اجازت دی تھی؟ اگر نہیں، تو یہ اجازت کس نے دی؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ سادہ لباس میں لاٹھیاں لے کر طلبہ کو مارتے نظر آنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار، اور انہیں کس کے حکم پر تعینات کیا گیا تھا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ پُرامن احتجاج جمہوریت کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور ان کے مطالبات و شکایات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالے۔ ان کے مطابق طلبہ پر ہونے والا یہ "وحشیانہ تشدد" جمہوریت کی اقدار کو مجروح کرنے والا ہے اور اس نے پورے ملک میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اور طلبہ ملک کا مستقبل ہیں، وہ جواب اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور ہر حال میں اسے سنا جانا چاہیے۔
