طلبہ اور کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہرے نیز اپوزیشن کی طرف سے ان کے استعفیٰ کے لیے حکومت پر بنائے جا رہے دباؤ کے درمیان مسٹر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا، "پچھلے 10 دن کے واقعات دیکھ کر میرا دل دکھی ہے۔ جنتر منتر پر اور ملک میں جو صورتحال بنی ہے، اس صورتحال کا ملک دشمن طاقتیں فائدہ نہ اٹھائیں، ملک کی یکجہتی برقرار رہے، ملک کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں، کریئر بنانے پر فوکس کریں، اسی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم جی کو بھیج دیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ ملک کی نوجوان طاقت ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ ملک کی نوجوان طاقت کو گمراہی کے جال میں پھنسنے نہیں دیں گے۔ مرکزی وزیر نے کہا، "یہ میرے لیے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔"
مسٹر پردھان نے کہا کہ گزشتہ 03 مئی کو ہوئی نیٹ امتحان میں جو بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں ان سے انہوں نے کبھی منہ نہیں موڑا ہے اور پہلے دن سے ہی ذمہ داری لی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ، ان کے اہل خانہ اور متحدہ اپوزیشن کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں اصلاح کی لڑائی ابھی جاری رہے گی۔
مسٹر کھرگے نے وزیرِ تعلیم کے استعفے پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہفتہ کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا "ہندوستان کے 'چھاتروں کی گونج' آخر کار مغرور اقتدار کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ہمارے کروڑوں نوجوانوں کی جیت ہے، جنہوں نے تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لیے ملک بھر میں آواز اٹھائی۔ یہ سچائی کی جیت اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ضد کی ہار ہے۔" انہوں نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ان خاندانوں کی بھی جیت ہے، جنہوں نے حکومت کے مبینہ بدعنوان نظام کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھویا۔
کانگریس صدر نے کہا، "اب باری ہے مودی جی کی ملک کی نوجوان نسل سے معافی مانگنے کی اور جنہوں نے ان پر لاٹھی ڈنڈے نیز پیلٹ گن چلوائی ہے، ان پر سخت کارروائی کرنے کی۔"
پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ ہندوستان کے نوجوانوں کی تاریخی جیت ہے اور طالب علموں کی طاقت نے نااہل، بدعنوان اور قصوروار وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ سوالنامہ لیک کے بعد سے ہی کانگریس، بالخصوص راہل گاندھی، مسلسل وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور پورا اپوزیشن جواب دہی کے مطالبے کے حق میں متحد ہو کر تحریک چلا رہا تھا۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس کے دیگر مطالبات میں طالب علموں پر حملے کے ذمہ دار لوگوں کو سزا اور وزیرِ اعظم کی طرف سے طلبا سے معافی، اب بھی برقرار ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں وسیع سدھار، طالب علموں پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے اور تعلیم کے معیار میں سدھار ہونے تک کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔
کانگریس جنرل سکریٹری اور کیرالہ کے وائناڈ سے رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طالب علموں کی جدوجہد کی جیت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے شروع سے طالب علموں کا مضبوطی سے ساتھ دیا اور تعلیمی نظام میں سدھار کی اس کی لڑائی جاری رہے گی۔
محترمہ واڈرا کا وائناڈ میں صحافیوں کے سوال پر دیے گئے جواب کو پارٹی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیا جس میں محترمہ واڈرا کہتی ہیں "راہل گاندھی پچھلے دو تین سال سے مسلسل سوالنامہ لیک اور امتحانی سدھار کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر پوری کانگریس تنظیم، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کو طالب علموں کے حقوق نیز تعلیمی نظام میں اصلاح کے لیے ملک گیر تحریک کھڑی کرنے کی ترغیب دی۔"
انہوں نے کہا "میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر سن کر جذباتی ہو گئی۔ کئی سال سے سوچتی تھی کہ ملک کے نوجوان ناانصافی کے خلاف کب متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ آج ملک کے نوجوانوں نے اپنی طاقت دکھائی اور پیغام دیا ہے کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔" انہوں نے الزام لگایا کہ تعلیمی نظام میں نظریاتی مداخلت بڑھی ہے اور مخالفت کرنے والے طالب علموں کے ساتھ طاقت کا استعمال ہوا ہے لیکن اب نوجوانوں نے اپنی بات پورے ملک کے سامنے رکھ دی ہے۔
