دونوں رہنماؤں نے پرچہ لیک کے معاملے پر وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے ویڈیو پیغام کے ذریعے دیے گئے بیان پر جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیرِ اعظم کو اپنا بیان پارلیمنٹ میں آ کر دینا چاہیے۔
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ رات گئے پارلیمنٹ سے باہر یکطرفہ انداز میں "من کی بات" نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹائیں، طلبہ سے معافی مانگیں اور طلبہ کی آواز دبانے کے لیے لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کا حکم دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات کیے جانے کے بعد ہی کانگریس پارلیمنٹ میں تعلیمی نظام پر تفصیلی بحث کے لیے تیار ہوگی۔
راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "مودی جی، ہمارے طلبہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آدھی رات کو جاری کیا گیا یہ کمزور ویڈیو پیغام طلبہ کی سمجھداری کی توہین نہ بنائیں۔"
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان کو برطرف کیا جائے، طلبہ پر تشدد کرنے والوں کو سزا دی جائے اور طلبہ سے باقاعدہ معافی مانگی جائے۔
