بات چیت میں حکومت کی طرف سے مرکزی وزرا جے پی نڈا ، جتینـدر سنگھ اور سی جے پی کی طرف سے ترجمان سورَو داس نیز آشوتوش رانکا شامل تھے۔ سی جے پی کی طرف سے مطالبات کا ایک خط بھی سونپا گیا۔ مسٹر پردھان کے استعفیٰ کے علاوہ پیپر لیک کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ اور دہلی میں سی جے پی کے دھرنے کے دوران مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ اہم ہے ۔
میٹنگ کے بعد سی جے پی کے نمائندوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ایف آئی آر واپس لیے جانے اور معاوضے کے مطالبے پر غور کرنے کے حوالے سے حکومت کا رویہ مثبت تھا، لیکن مسٹر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر وزراء نے ہفتے کی دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کو حکومت کے ساتھ دوبارہ میٹنگ ہوگی۔
ترجمانوں نے کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ نہیں ہوتا ہے یا انہیں برطرف نہیں کیا جاتا ہے تو سی جے پی بڑے پیمانے پر تحریک کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں جنتر منتر پر آنے والے یا جنتر منتر سے جا رہے لوگوں کو دہلی پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے واقعات کو بھی رکھا گیا۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ اسے اس کے بارے میں علم نہیں ہے، لیکن اگر ایسا ہو رہا ہے تو اسے روکا جائے گا۔ سی جے پی نمائندوں نے بتایا کہ ان کی معلومات میں مظاہرین کے خلاف 11 ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے ان کی کاپی مانگی ہے اور ایف آئی آرز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
میٹنگ کے بعد مسٹر نڈا نے کہا کہ تقریباً دو گھنٹے تک خوشگوار ماحول میں نئے زاویے اور نئے انداز سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سی جے پی کے کچھ مطالبات پر غور کرنے کے بعد ہفتے کی دوپہر کے بعد اس کے نمائندوں کے ساتھ پھر میٹنگ ہوگی۔
