یہ ردِعمل ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے امریکہ کو بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے اور انگلینڈ کے آر اے ایف فیئر فورڈ سمیت دیگر فوجی تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی جانب سے فوجی اڈے اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کرنا امریکہ کے ان حملوں کی حمایت ہے جنہیں ایران نے "غیر قانونی" قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت کا اپنے فوجی اڈے امریکہ کے لیے دستیاب کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے آرٹیکل 3(ف) کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کو کسی تیسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے جارحیت تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے برطانیہ کا یہ اقدام بھی جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانوی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسرائیل کی شمولیت سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کھلی جارحیت ہے، اور اس کی تیاری یا عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی مدد کرنا جارحیت اور جنگی جرائم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کے باوجود برطانیہ کی جانب سے حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے مبینہ جارح ممالک کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کی۔
بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ نے غیر قانونی فوجی حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آور ممالک کا ساتھ دینے کا راستہ اختیار کیا، جو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور عالمی امن و سلامتی کے بارے میں اس کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایران نے برطانیہ پر ماضی میں بھی ایران مخالف اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے 1953 کی بغاوت، ایران۔عراق جنگ میں عراق کی حمایت، ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں، اقوامِ متحدہ کے "اسنیپ بیک" نظام کو فعال کرنے کی کوششوں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، اور جو بھی فریق ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں کسی بھی انداز سے شریک ہوگا، اسے اپنے فیصلے کے نتائج کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے سابق وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو ڈیگو گارشیا اور آر اے ایف فیئر فورڈ کے فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ گزشتہ ہفتے سے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کر رہا ہے، جبکہ ایران نے جواباً خطے کے کئی ممالک میں موجود ان تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ امریکی فوج کے زیرِ استعمال قرار دیتا ہے۔
