Masarrat
Masarrat Urdu

بھوک ہڑتال واپس لینے کے لیے وانگچک نے رکھیں تین شرطیں، نیٹ لیک پر کارروائی کا مطالبہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 20 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) سماجی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے لیئے مہم چلانے والے سونم وانگچک نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اگر تعلیمی اصلاحات اور نیٹ پیپر لیک کے سلسلے میں ان کے مطالبات کے حوالے سے سرکار اور سیاسی قیادت کی طرف سے تین اہم یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، تو وہ اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صفدر جنگ ہسپتال سے جاری ایک ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ میں مسٹر وانگچک نے کہا کہ وہ اپنی شرطیں پوری ہونے کے بعد ہی بھوک ہڑتال ختم کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں 'غیر قانونی حراست' میں رکھا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کی نقل و حرکت، بولنے اور بات چیت کرنے کی آزادی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے 'ایکس' اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے خط کے مطابق، مسٹر وانگچک کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ سرکار تعلیمی نظام میں آئی سنگین خامیوں کی ذمہ داری قبول کرے، جس میں نیٹ امتحان کا پیپر لیک ہونا بھی شامل ہے۔

ان کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ یقینی بنائیں کہ پارلیمنٹ کے جاری مانسون سیشن کے دوران اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی صحت سے متعلق صورتحال انہیں پارلیمنٹ کے مجوزہ مارچ میں شامل ہونے سے روکتی ہے، تو سینئر سیاسی لیڈروں کو ہسپتال میں ان سے ملنا چاہیے اور ذاتی طور پر انہیں یقین دلانا چاہیے کہ پہلے دو مطالبات پر کارروائی کی جائے گی۔

مسٹر وانگچک 28 جون کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے تھے اور انہوں نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ دہلی پولیس نے بھوک ہڑتال کے 21 ویں دن صحت بگڑنے کے بعد 18 جولائی کو انہیں صفدر جنگ ہسپتال پہنچایا تھا۔ پولیس نے یہ کارروائی ڈاکٹروں کی اس وارننگ کے بعد کی کہ ان کا طویل عرصے سے جاری بھوک ہڑتال ان کی زندگی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے، جس سے اعضاء کے کام بند کرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے بھی حکام کو ان کی زندگی کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی تھیں، جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ مسلسل طبی نگرانی میں ہیں۔

 

Ads