Masarrat
Masarrat Urdu

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا 19واں دن، تقریباً نو کلو گرام وزن گھٹا

Thumb

نئی دہلی، 16 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال جمعرات کو 19 ویں دن میں داخل ہو گئی اور اس دوران ان کا وزن تقریباً نو کلو گرام سے زیادہ کم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کی بھوک ہڑتال جاری رہی تو جلد ہی جسم کے اعضاء پر اثر پڑنے والا سنگین مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔

مسٹر وانگچک مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے خلاف اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بینر تلے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

مسٹر وانگچک کی صحت کی نگرانی کر رہے ڈاکٹر ستیش لامبا نے کہا ہے کہ فی الحال وہ ذہنی طور پر پوری طرح بیدار ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، لیکن ان کی حالت کسی بھی وقت تشویشناک ہو سکتی ہے۔ ان کا وزن تقریباً نو کلو گھٹ کر 56.9 کلو گرام رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسم میں پانی کی مقدار فی الحال اطمینان بخش ہے۔

ڈاکٹر لامبا کے مطابق بھوک ہڑتال کے دوسرے مرحلے میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھ گئی ہے، جو پٹھوں کے ٹوٹنے اور جسم کی طرف سے ان کے استعمال کا اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تیسرا مرحلہ شروع ہونے کا خدشہ ہے، جس میں جسم کے اندرونی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران سیاست دانوں، حامیوں اور قانونی سطح پر بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیلوں کے باوجود مسٹر وانگچک نے اسے ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل ملے بغیر بھوک ہڑتال ختم کرنے سے غلط پیغام جائے گا۔

انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، "اگر میں کھانا کھا لوں تو سرکار کو یہ پیغام جائے گا کہ جوابدہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ احتجاج کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ مجھے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی ہزاروں اپیلیں ملی ہیں اور کئی سینئر لیڈروں نے بھی ذاتی طور پر گزارش کی ہے۔"

انہوں نے حامیوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اب تک کی گئی طبی جانچ میں کسی فوری خطرے کی صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میری حالت ایسی نہیں ہے کہ دو چار دن میں میری موت ہو جائے گی۔ کئی طبی جانچ کے نتائج 18 دن کی بھوک ہڑتال کے حساب سے معمول کے مطابق ہیں۔ ای سی جی بھی کرایا گیا ہے اور اس کی رپورٹ اطمینان بخش ہے۔ میں ابھی کئی دن اور بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتا ہوں۔" مسٹر وانگچک نے اعتراف کیا کہ انہیں کمزوری محسوس ہو رہی ہے اور پٹھوں کا نقصان ہوا ہے، لیکن ان کا دل اور دیگر اہم جسمانی اعضا ابھی معمول کے مطابق ہیں۔ انہوں نے حامیوں سے ان کی بھوک ہڑتال پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن مجوزہ 'چلو سنسد' مارچ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

 

Ads