Masarrat
Masarrat Urdu

ڈرون سے ٹی بی جانچ ہوگی تیز، آئی سی ایم آر مطالعہ میں تشخیص کا وقت 15 سے گھٹ کر پانچ دن

Thumb

نئی دہلی، 16 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ایک مطالعے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ڈرون کی مدد سے تپِ دق (ٹی بی) کے تھوک کے نمونوں کی نقل و حمل کرنے سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں ٹی بی کی جانچ تیز ہو سکتی ہے۔

وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود نے جمعرات کو بتایا کہ آئی سی ایم آر کے ایک مطالعے کے مطابق، ڈرون پر مبنی نظام سے ٹی بی کی تشخیص کا اوسط وقت 15 دن سے گھٹ کر صرف 5 دن رہ گیا جبکہ مریضوں کی جیب سے ہونے والے اخراجات میں بھی کافی کمی درج کی گئی۔ وزارت نے کہا کہ آئی سی ایم آر کی اہم 'آئی-ڈرون' پہل کے تحت تلنگانہ کے یادادری-بھونگیری ضلع میں قومی ٹی بی خاتمہ پروگرام (این ٹی ای پی) کے تحت یہ مطالعہ کیا گیا۔ مطالعے میں 840 شرکاء کو شامل کیا گیا اور روایتی نظام کا موازنہ ڈرون پر مبنی نمونہ نقل و حمل کے نظام سے کیا گیا۔ اس ماڈل میں پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور سب سینٹرز سے تھوک کے نمونے ڈرون کے ذریعے مقررہ ٹی بی لیبارٹریوں تک پہنچائے گئے۔

مطالعے کے مطابق، ڈرون نظام نافذ ہونے کے بعد مریضوں کا اوسط ذاتی خرچ تقریباً 9,451 روپے سے گھٹ کر صرف 91 روپے رہ گیا۔ کئی مریضوں کو جانچ کے لیے سفر ہی نہیں کرنا پڑا، جس سے ان کا خرچ صفر رہا۔ یہ نظام 11 پرائمری ہیلتھ سینٹرز، 60 سب سینٹرز اور چار ٹی بی یونٹس کو جوڑنے والے ہب اینڈ اسپوک نیٹ ورک کے ذریعے چلایا گیا، جس سے دیہی علاقوں کے لوگوں کو اپنے گاؤں کے پاس ہی نمونے جمع کرنے کی سہولت ملی۔

محکمہ صحت کی تحقیق کے سکریٹری اور آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ بروقت اور سستی تشخیص ہندوستان کی ٹی بی کے خاتمے کی مہم کا اہم ستون ہے۔ ان کے مطابق، یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی جغرافیائی رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں پر معاشی بوجھ کم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی-ڈرون پہل سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل میں عوامی صحت کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مطالعے میں شامل ہیلتھ ورکرز نے بھی تسلیم کیا کہ ڈرون پر مبنی نقل و حمل سے نمونوں کی ترسیل میں تاخیر کم ہوئی، کارکردگی میں اضافہ ہوا اور مقامی برادریوں نے اسے مثبت طور پر قبول کیا۔ موسم، وزن اٹھانے کی صلاحیت اور تربیت یافتہ انسانی وسائل جیسے چیلنجوں کی بھی نشان دہی کی گئی، جن پر بڑے پیمانے پر توسیع سے پہلے توجہ دینی ہوگی۔

 

 

Ads