Masarrat
Masarrat Urdu

'کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لیپا پوتی' ہے مودی حکومت کی پالیسی : کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 13 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بدعنوانی کے معاملات کو دبانے اور جوابدہی سے بچنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی اصل پالیسی 'کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لیپا پوتی' کی رہی ہے۔

کانگریس شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر ایک بیان میں کہا کہ مئی 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر مودی نے 'نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا' کا نعرہ دیا تھا لیکن یہ دعویٰ پوری طرح سے کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 8نومبر 2016 کی مسٹر مودی کی نوٹ بندی کے اعلان کو 'منظم لوٹ اور قانونی لوٹ' بتانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد گجرات اسٹیٹ پٹرولیم کارپوریشن (جی ایس پی سی) کو او این جی سی میں ملا کر 20 ہزار کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کو چھپانے، انتخابی بانڈ اسکیم کے ذریعے مبینہ 'چندہ دو، دھندا لو' نظام، رافیل سودے پر اٹھے سوالات، بغیر شفافیت اور جوابدہی والے پی ایم کیئرز فنڈ اور آیوشمان بھارت اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا جیسی بڑی سرکاری اسکیموں میں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹوں میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا۔

مسٹر رمیش نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کئی اور واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے 'نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا' کے دعوے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کا معاملہ ملک کے عقیدے کے ساتھ دھوکہ ہے اور کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے حکم کے باوجود اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ پر اپنے اہل خانہ کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے سنگین الزامات لگے ہیں اور وہ بھی عہدے پر برقرار ہیں۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتوں کو مختلف قسم کے معاشی ترغیبات دے کر توڑا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت میں ایک ریاستی وزیر اپنی ہی وزارت کی اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے الزامات کے باوجود عہدے پر برقرار ہیں۔ اسی طرز پر وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی میں مرکزی وزیر کے چار قریبی ساتھیوں کو اچانک ہٹائے جانے، وزارت سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی ای-20 پالیسی سے مرکزی وزیر کے خاندان کو مبینہ فائدہ پہنچانے اور دہلی کی وزیر اعلیٰ کے خاندان کی انتظامی کاموں میں مبینہ مداخلت جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی ایسے وزیر تعلیم کو بھی عہدے پر برقرار رکھے ہوئے ہیں جن کے دور کار میں امتحانی نظام کرپٹ اور سمجھوتہ زدہ ہو گیا ہے اور اس سے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی امیدوں اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے۔ مودی حکومت کی پہچان اب 'کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لپا پوتی' بن گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا حقیقی منتر 'نا کھاؤں گا، نا کھانے دوں گا' نہیں بلکہ 'کھاؤں گا، کھانے دوں گا اور کھلاؤں گا' بن گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ گڈ گورننس کی بات کرنے والی حکومت کا کام 'کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لپا پوتی' کی پالیسی پر مبنی ہو گیا ہے۔

 

Ads