اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے صرف میزائل اور ڈرون حملوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا، جبکہ امریکہ کا مؤقف تھا کہ یہ آبی گزرگاہ پہلے کی طرح بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آزاد ہونی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسی بنیادی اختلاف نے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر عسکری کشیدگی کو جنم دیا۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی جانب سے مقررہ راستے سے ہٹ کر سفر کرنے والے کم از کم 3 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جوابی کارروائی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب مؤثر نہیں رہی، جس کے بعد جمعرات کو بھی دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ماہرین کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق واضح طریقہ کار موجود نہیں۔
ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، امریکی حکام معاہدے کے تحت ایران کو بارودی سرنگیں صاف کرنے اور محفوظ بحری آمد و رفت یقینی بنانے کی ذمے داری دی گئی، جبکہ ابتدائی 60 دن تک تجارتی جہازوں سے کوئی فیس وصول نہ کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
دوسری جانب معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران، عمان اور خلیجی ممالک مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری خدمات کے طریقہ کار پر مشاورت کریں گے، جس کی دونوں فریق مختلف تشریح کر رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہو گی، جبکہ امریکہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے مؤقف امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا اور امریکی افواج نے مئی سے اب تک سیکڑوں تجارتی جہازوں اور لاکھوں بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حرکت میں مدد فراہم کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نگرانی ناصرف ممکنہ محصولات کی وجہ سے اہم ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کے خلاف ایک مؤثر دفاعی دباؤ بھی فراہم کرتی ہے۔ معاشی اور سیاسی اثرات آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئیں، جس سے مہنگائی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے پر عالمی منڈیوں میں استحکام آیا، تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم چند ہی روز بعد کشیدگی دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت صرف جنگ روکنے کا ایک فریم ورک تھی، مستقل امن کا معاہدہ نہیں، امریکہ اور ایران اس معاہدے کی اپنی اپنی تشریح نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اس اختلاف کا پہلا بڑا امتحان بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں، تاہم ایران کی معاشی مشکلات، امریکا میں بڑھتی توانائی کی قیمتیں اور آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات جیسے عوامل دونوں فریقوں کو مکمل جنگ سے گریز پر مجبور کر سکتے ہیں۔
