مسٹر گاندھی نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک کے کچھ ہی ہفتوں بعد اب یو جی سی نیٹ امتحان پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جو ملک کے امتحانی نظام کی ساکھ پر بڑا بحران ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ امتحان سے ٹھیک پہلے 100 صفحات کی ایک پی ڈی ایف گردش کر رہی تھی، جو سوالنامہ تیار کرنے سے متعلق تھی اور مبینہ طور پر صرف نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے پاس دستیاب ہو سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پی ڈی ایف کے تقریباً 90 سوالات سوشیالوجی کے اصل سوالنامے سے میل کھاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہی سوالنامہ بہار، اتر پردیش، ہریانہ، دہلی اور راجستھان میں 2.25 لاکھ روپے میں بیچا جا رہا تھا۔ ساتھ ہی، اسی نیٹ ورک کے ذریعے سی ایس آئی آر-نیٹ، ایچ ٹی ای ٹی اور اے ڈی اے جیسے آنے والے امتحانات کے سوالنامے فراہم کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نیٹ اور یو جی سی نیٹ میں بار بار سامنے آئے مبینہ گھوٹالوں کے باوجود مودی حکومت آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہے اور لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر تعلیم سے جوابدہی یا مؤثر کارروائی کی امید کرنا بیکار ہے۔ ان کے مطابق، نہ منصفانہ جانچ ہوگی اور نہ ہی طلبہ کو انصاف ملے گا۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ تبدیلی کا واحد ذریعہ ملک بھر کے طلبہ کی متحد آواز ہے اور طلبہ کی یہ تحریک ہندستان کے تعلیمی نظام میں وسیع تبدیلی لائے گی۔
