مسٹر وینوگوپال نے جمعہ کو کہا کہ 28 جون کو 23 اپوزیشن پارٹیوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے ملک کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) عمل میں مبینہ خامیوں، الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ رول اور الیکشن سے جڑے دیگر اہم مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت کرنا عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے، خاص طور پر تب جب انتظامیہ پر آئینی فریم ورک کو کمزور کرنے کے الزامات لگ رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پر یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوں اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی عمل کی غیر جانبدارانہ حیثیت اور ساکھ پر سوالات برقرار رہتے ہیں تو ملک کے 140 کروڑ ووٹروں کے ساتھ انصاف نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے اعلیٰ عدالت کی بروقت مداخلت جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے بتایا کہ شفافیت کے مفاد میں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے چیف جسٹس کو بھیجا گیا خط عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ عدالت انتخابی عمل کی غیر جانبدارانہ حیثیت، جوابدہی اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔
