بدر البوسعیدی نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس یا خدمات کا معاوضہ عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔
عمانی وزارت خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری کیے گئے مونٹی کارلو انٹرنیشنل ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ مسقط بین الاقوامی بحری قانون کا پابند ہے، جو بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں پر فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
عمانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ اس بات پر اتفاقِ رائے موجود ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق مستقبل کے کسی بھی انتظام کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نافذ کیا جائے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمان اور ایران کی مشترکہ کمیٹی نے مسقط میں آبنائے ہرمز سے متعلق اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام اور ممکنہ طریقہ کار پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
