Masarrat
Masarrat Urdu

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد

  • 30 Jun 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 30 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایران نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں فرانس کی شرکت سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ذمہ داری صرف ایران ادا کرے گا اور یہ اقدام امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہوگا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام صرف ایران انجام دے گا، جیسا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے، اس لیے فرانس کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

کاظم غریب آبادی نے فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی "اشتعال انگیزیوں" سے حالات کو مزید پیچیدہ نہ بنائے۔

ایرانی ردعمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اور سلطنت عمان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے تعاون کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کی جا سکے اور عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

میکرون نے پیرس میں سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ دونوں ممالک نے شراکت داروں کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں نئے انتظامات زیر غور ہیں اور اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی اور جہاز رانی کے انتظامات کی ذمہ داری کس کے پاس ہوگی۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ایک ایرانی تکنیکی وفد رواں ہفتے قطر کا دورہ کرے گا، جہاں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی رابطوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی حکام کے ممکنہ دورۂ دوحہ سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان نے مزید واضح کیا کہ ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر مکمل عمل درآمد آئندہ مرحلے کی بات چیت سے پہلے ضروری ہے۔

 

 

Ads