سیشلز کے دورے پر گئے مسٹر مودی نے اتوار کو صدر پیٹرک ہرمینی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارا تصور بحرِ ہند کو مواقع کا سمندر بنانا ہے۔ اس دوران یو پی آئی کو سیشلز میں نافذ کرنے اور جن اوشدھی جیسے صحت سے متعلق شعبوں میں تعاون کے مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا دورہ ایسے تاریخی موقع پر ہو رہا ہے، جب سیشلز اپنی آزادی کے پچاس سال مکمل کر رہا ہے اور ہم ہند-سیشلز سفارتی تعلقات کی بھی پچاسویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ان پچاس برسوں کے سفر میں ہم نے دوستی کو اعتماد میں، اعتماد کو تعاون میں اور تعاون کو عوامی بہبود میں بدلا ہے۔ بحرِ ہند نے صدیوں سے ہندوستان اور سیشلز کے تعلقات کو سینچا ہے۔ اس کی لہروں نے ہمارے درمیان تجارت، ثقافت اور انسانی تعلقات کو مسلسل پروان چڑھایا ہے۔"
مسٹر مودی نے بحرِ ہند کو مشترکہ ورثہ بتاتے ہوئے کہا کہ "ہمارا ایمان ہے کہ بحرِ ہند ہمارا مشترکہ گھر ہے؛ اس کی سکیورٹی، پائیداری اور خوشحالی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی جذبہ ہمارے سمندری وژن کی بنیاد ہے۔" انہوں نے کہا کہ "میرے سیشلز کے دورے کا پیغام واضح ہے، ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سکیورٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی بھی بڑھے؛ جہاں ہماری شراکت داری حجم نہیں، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہو اور جہاں ہم ہر ملک کے پاس پاس نہیں، ساتھ ساتھ چلیں۔ میرے سیشلز کے دورے کا پیغام واضح ہے: ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سکیورٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی میں بھی اضافہ ہو؛ جہاں ہماری شراکت داری حجم پر نہیں، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہو اور جہاں ہم ہر ملک کے پاس پاس نہیں، ساتھ ساتھ چلیں۔ ہمارا تصور بحرِ ہند کو مواقع کا سمندر بنانا ہے۔"
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے تعلقات کے گزشتہ پچاس سال گہرے اعتماد اور مشترکہ ترقی کے رہے ہیں اور آنے والے پچاس سال اختراع، پائیداری اور مشترکہ خوشحالی کے ہوں گے۔
