بدھیاتولا گاؤں، ضلع کھنڈوا کی ایتوا تحصیل میں واقع ہے، جہاں مبینہ طور پر مویشی ذبح کیے جانے کے ایک مقدمے میں 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ مرکزی ملزم پر قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
20 جون 2026 کو چند ہندوتوا تنظیموں کے ارکان نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے منڈی ہائی وے کو بند کر دیا۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مبینہ طور پر گاؤں میں چند مکانات کو "غیر مجاز تعمیرات" قرار دے کر منہدم کیا اور متعدد دیگر خاندانوں کو بھی انہدام کے نوٹس جاری کر دیے۔
متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر اے پی سی آر نے فوری قانونی مداخلت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ، جبل پور سے رجوع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں عدالتِ عالیہ نے چار مکانات کے انہدام پر عبوری روک عائد کی۔ بعد ازاں مزید 47 خاندانوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جس کے بعد اے پی سی آر نے 34 مزید خاندانوں کی جانب سے بھی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر بھی سماعت کرتے ہوئے عبوری تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں اب تک 38 مکانات کے انہدام پر عدالتی پابندی عائد ہو چکی ہے۔
اے پی سی آر کی جانب سے عدالت میں یہ مقدمات سینئر ایڈووکیٹ کبیر پال، ایڈووکیٹ آریان اُرمالیہ اور ان کی قانونی ٹیم نے مؤثر انداز میں پیش کیے۔
اس موقع پر اے پی سی آر نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کسی بھی فوجداری مقدمے کی تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھنی چاہئیں، تاہم آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر رہائشی مکانات کو منہدم کرنا نہ صرف شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
اے پی سی آر نے واضح کیا کہ بلڈوزر کارروائیاں عدالتی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی انہیں اجتماعی سزا کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اور آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن عدالتی چارہ جوئی جاری رکھے گی۔
