اس پریس کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے وکلا، ماہرین قانون، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور متاثرہ برادریوں کے افراد نے شرکت کی۔
پریس کانفرنس کو خطاب کرنے والوں میں سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، انڈین ملمس فار سول رائٹس کے چئرمین اور سابق رکن پارلیمان محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، معروف مصنفہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمید، انسانی حقوق کے کارکن جان دیال، اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان، ایڈوکیٹ سید سادات علی اور ایڈوکیٹ ریاست علی شامل تھے۔
سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں مذہبی مقامات کے انہدام اور اس کے خلاف دستیاب قانونی راستوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔ ہمیں ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس جدوجہد میں ہمیں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو مؤثر طریقے سے کام کرسکتے ہیں، نہ کہ صرف ان کے ساتھ جو ہمارے ذاتی مفادات کے قریب ہوں۔" اس دوران پریس کو خطاب کرتے ہوئے محمد ادیب نے کہا: "غیر قانونی انہدامی کارروائیوں میں ملوث پولیس اور انتظامی افسران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں مالی طور پر بھی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر اپوزیشن کو عوامی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی، ورنہ اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔"
جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے تمام متاثرہ طبقات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "ظالم کو کمزور اور مظلوم کو مضبوط ہونا چاہیے۔ ہم کسی کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، بلکہ سب مل کر مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔" آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کے صدر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان نے متاثرہ کمیونٹیوں اور ان کے قانونی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ہر ممکن عدالتی راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا: "چاہے کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں، عدالتوں کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں۔ تاریخ میں یہ ریکارڈ ہونا چاہیے کہ ہم نے تمام قانونی راستے اختیار کیے تھے۔ بابری مسجد کے معاملے میں بھی یہ تسلیم کیا گیا کہ مسجد صدیوں پرانی تھی اور اسے مجرمانہ طور پر منہدم کیا گیا، لیکن فیصلہ پھر بھی مختلف آیا۔ ایسے واقعات کو تاریخ کے حاشیے میں نہیں بلکہ اصل متن میں جگہ ملنی چاہیے۔"
معروف سماجی کارکن اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن ڈاکٹر سیدہ حمید نے کہا "میں بابری مسجد کے انہدام اور 2002 کے گجرات فسادات کی گواہ رہی ہوں۔ آج یہ ہمارے وجود کا مسئلہ بن چکا ہے۔ لیکن اس ملک میں بہت سے ہندو، سکھ اور عیسائی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم سب مل کر اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔"
مصنف اور سماجی کارکن جان دیال نے اقلیتی اداروں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا "مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جن میں طے کیا جاتا ہے کہ کون، کب اور کیسے کارروائی کرے گا۔"
اس موقع پر اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے مختلف ریاستوں میں ہونے والی انہدامی کارروائیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "جس طرح ماضی میں ہجومی تشدد (لنچنگ) ایک منظم رجحان بن گیا تھا، اسی طرح اب مساجد پر حملوں اور انہدام کی کارروائیوں کا ایک منظم طریقہ سامنے آ رہا ہے۔ پہلے ایک فرد کو نشانہ بنا کر خوف پیدا کیا جاتا تھا، اب پوری برادری کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"
راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ سید سادات علی نے بتایا کہ ریاست کے سرحدی اضلاع میں بڑی تعداد میں مساجد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ صرف مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ وجود کا مسئلہ ہے۔ صرف باڑمیر ضلع میں تقریباً 300 مساجد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کارروائی صرف ایک ہی برادری کے مذہبی مقامات تک کیوں محدود ہے؟"
میرٹھ سے آئے ایڈوکیٹ ریاست علی نے کہا "اگر کوئی سرکاری افسر قانون کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اور اسے جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ ہمیں آئین کو بنیاد بنا کر اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔"
پریس کانفرنس میں باڑمیر، جے پور، وارانسی، میرٹھ، سنبھل اور غازی آباد سے آئے ہوئے کمیونٹی نمائندوں نے اپنے علاقوں میں مذہبی مقامات کے انہدام کے واقعات کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے خاص طور پر جے پور کے نندپوری علاقے میں واقع نورانی مسجد کا ذکر کیا، جو 1981 میں تعمیر کی گئی تھی، 2003 کے سرکاری سروے میں درج تھی اور وقف پورٹل پر بھی موجود تھی، مگر مسجد کمیٹی کو پیشگی نوٹس دیے بغیر اسے منہدم کر دیا گیا۔عوامی نمائندوں نے ان کارروائیوں کے سماجی، ثقافتی اور مذہبی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی معاملات میں مناسب مشاورت، شفافیت اور قانونی تحفظات کا خیال نہیں رکھا گیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔ ایک جمہوری اور کثیر ثقافتی ملک کی حیثیت سے تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ مذہبی مقامات کے انہدام کے معاملات میں قانون کی حکمرانی، جواب دہی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ انتظامیہ تمام کارروائیاں غیر جانبدارانہ، شفاف اور بلاامتیاز انداز میں انجام دے۔
