تہران، 22 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کی شقوں پر فریق مخالف کے عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنیوا میں جاری ایران-امریکہ مذاکرات کا مقصد جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر فریق مخالف کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران معاہدے کی تمام متعلقہ شقوں پر عملدرآمد کے حوالے سے مکمل سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔
بقائی کے مطابق 18 جون 2026ء کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق 13 یہ واضح کرتی ہے کہ حتمی معاہدے پر مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں جب شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر مکمل عملدرآمد ہو جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ بالخصوص لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ حتمی مذاکرات کے آغاز کے لیے بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مذاکرات میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کے نفاذ، ایران کی تیل برآمدات سے متعلق شق 10 اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق شق 11 پر عملدرآمد کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
