پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات دونوں ممالک کو تاریخ میں پہلی مرتبہ براہ راست رابطے اور اختلافات کے حل کا موقع فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔
بورگن اشتوک میں امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اجلاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھولا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مثبت سمت دی جائے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس کی قیادت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں سے دستبردار ہونے اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی بھی خواہش کو مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے تیار ہے تو واشنگٹن بھی تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے آمادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ماضی کے تنازعات کو پس پشت ڈال کر تعلقات کو ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول امریکہ لبنان میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور اسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان اہم امور پر بات چیت آگے بڑھی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اپنی جوہری خواہشات ترک کرنا ہوں گی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کے خواہاں ہیں جہاں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا ہے اور امریکہ آئندہ مرحلوں میں مزید مثبت پیش رفت کا منتظر ہے۔
