انہوں نے کہا کہ بات چیت اتوار کو بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ علاقائی سلامتی سے متعلق کشیدگی اور نازک جنگ بندی کی صورتحال کے پیشِ نظر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکی اعلیٰ حکام پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے اور واشنگٹن سفارت کاری کو موقع دینا چاہتا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ میں آئندہ چند دنوں میں کسی بھی وقت روانہ ہو جاؤں گا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ایک نہایت نازک اور متوازن عمل ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ بندی کا معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی فوجی حکام کے سابقہ اعلانات کے باوجود، ’’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا ہو۔‘‘
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران ’’فوجی لحاظ سے شکست کھا چکا ہے اور اس کے پاس نہ مؤثر بحریہ ہے اور نہ ہی فضائیہ۔‘‘ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جاری سفارتی کوششوں سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کے مؤقف کا بھی دفاع کیا۔
