Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ہندوستانی مفادات کو موثر طریقے سے نہیں رکھ سکے مودی: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 20 جون (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس نے کہا ہے کہ حال ہی میں جی-7 ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کی ہے لیکن اس ملاقات کے دوران وہ ہندوستان کے مفادات سے جڑے اہم مسائل موثر طریقے سے نہیں اٹھا پائے اور اس سے عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار کو نقصان پہنچا ہے۔

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر مودی اور صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران وزیر اعظم ہندوستانی ملاحوں کے قتل، یکطرفہ امریکی تجارتی معاہدے اور آپریشن سندور کے بعد فوجی کارروائی کو روکنے کے حوالے سے مسٹر ٹرمپ کے دعووں جیسے موضوعات کو اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی صرف صدر ٹرمپ کی تعریف سے مطمئن نظر آئے اور قومی مفادات سے جڑے سوالات پر وہ کھل کر بولتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ کانگریس کو اس بات کا دکھ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حکومت بین الاقوامی سطح پر اپنی بات مضبوطی سے رکھنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دیویانی کھوبرگڑے کیس کے وقت ہندوستان نے امریکہ کو واضح اور سخت پیغام دیا تھا۔ اسی طرح ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے وقت پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں لانے کے لیے ہندوستان کی جانب سے ہی موثر کوششیں کی گئی تھیں، جبکہ اب آپریشن سندور کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو امریکہ میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی اور صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران امریکہ کی جانب سے ہند-بحرالکاہل کمان کے نام میں تبدیلی، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کے نقشے سے متعلق متنازع پیشکش اور اگلے جولائی کے ویزا بلیٹن میں ہندوستانیوں کے لیے ای بی-2 اور ای بی-5 زمروں سے متعلق فیصلوں جیسے واقعات پر بھی ہندوستان کی طرف سے کوئی سخت احتجاج سامنے نہیں آیا۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ کمال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے برکس کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کا ذکر کیا، لیکن وزیر اعظم مودی نے اس پر کوئی موثر ردعمل نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو بین الاقوامی فورمز پر اپنے قومی مفادات اور خود داری کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنی بات رکھنی چاہیے۔

 

Ads