انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ’’بی جے پی کے نام نہاد وکست بھارت کی حقیقت یہی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اس حد تک معمول بن چکی ہیں کہ پیدا نہ ہونے والے مسلم بچوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کو بلاخوف و خطر مسمار کیا جا رہا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے تقسیم پیدا کرنے والی زبان اور بیانات کی بڑھتی ہوئی قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بیانات کے خلاف خاموشی معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس قسم کی نفرت انگیز بیان بازی پر جاری خاموشی اُن عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی کا یہ ردِعمل للت شرما کی جانب سے دہرادون کے بیراگی والا علاقے میں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے بعد سامنے آیا۔
