یوتھ کانگریس کے قومی ترجمان ورون پانڈے نے کہا کہ روزگار میلے میں ٹاٹا اے آئی اے، فلپ کارٹ، زیپٹو، وولٹاس، ٹیک مہندرا، پے ٹی ایم ، آدتیہ برلا، ہتاشی اور اربن کلیپ سمیت قریب 150 نجی کمپنیوں نے حصہ لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 30 ہزار نوجوانوں نے آن لائن رجسٹریشن کرایا، جبکہ نو ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے موقع پر رجسٹریشن کرایا۔ ان میں سے سات ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو فوری تقررنامے (اپوائنٹمنٹ لیٹر) دیے گئے اور کئی امیدواروں کو کمپنیوں کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعہ اگلے مرحلے کے انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔
پروگرام میں کانگریس جنرل سکریٹری سچن پائلٹ، سکھجندر سنگھ رندھاوا، قاضی نظام الدین، دہلی پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو، پنجاب کانگریس صدر امریندر سنگھ راجا وڑنگ، ایم پی کشوری لال شرما، کانگریس سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی صدر سپریہ شرینیت، این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ سمیت کئی سینئر لیڈر موجود تھے۔
یوتھ کانگریس صدر ادے بھانو چب نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں پیپر لیک کے واقعات بڑھے ہیں اور بے روزگاری سے نوجوان پریشان ہیں، جبکہ حکومت کی کوئی جوابدہی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ کانگریس "روزگار، انصاف اور جوابدہی" مہم کے تحت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مسٹر چب نے کہا کہ پیپر لیک اور بار بار منسوخ ہونے والے امتحانات سے پریشان نوجوان اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی کی سالگرہ پریوتھ کانگریس نے نوجوانوں کی محنت کا احترام کرنے کا عزم کیا ہے اور ان کے مواقع کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی نے ہمیں بے روزگاری دی، ہم نے اس کے جواب میں روزگار کا میلہ کھڑا کر دیا۔ یہ صرف ایک پروگرام نہیں، بلکہ راہل گاندھی کے وژن پر یقین رکھنے والوں کی مہم ہے۔" یوتھ کانگریس کے انچارج منیش شرما نے کہا کہ روزگار میلے میں امڈنے والی بھیڑ ملک کے نوجوانوں کی امنگوں اور روزگار کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کسی ہمدردی کی نہیں بلکہ موقع کی ضرورت ہے۔ دہلی یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکڑا نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو روزگار دلانے کی ایک ٹھوس کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روزگار پیدا کرنے کے وعدوں پر حکومت خاموش ہے اور ایسے میں اپوزیشن نوجوانوں کے مفادات کے لیے آگے آ رہا ہے۔
پروگرام میں یوتھ کانگریس کے کئی قومی عہدیداران، پردیش صدور اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
