اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ معاہدے پر دستخط کے فوری بعد شروع ہونے والے 60 روزہ عرصے میں 2 اہم معاملات، یعنی پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تفصیلی جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مفاہمتی یادداشت پر کسی مخصوص مقام پر ملاقات کے بجائے دونوں صدور ورچوئل طریقے سے دستخط کریں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے ابتدا ہی سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ مرحلے میں جوہری مسئلہ زیرِ بحث نہیں آئے گا اور توجہ صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے ہدف کو حاصل کر لیا گیا ہے اور معاہدہ بدھ سے ہی مؤثر ہو چکا ہے۔
