Masarrat
Masarrat Urdu

رکنِ پارلیمان مہدی کا الزام، بی جے پی اپوزیشن کو کمزور کرکے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہے

Thumb

سری نگر، 18 جون (مسرت ڈاٹ کام) رکنِ پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے رہنما روح اللہ مہدی نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپوزیشن جماعتوں کو کمزور اور تقسیم کرکے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ اہم آئینی ترامیم منظور کرائی جا سکیں۔

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مہدی نے کہا کہ بی جے پی علاقائی اور اپوزیشن جماعتوں، بشمول آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، شیو سینا اور دیگر جماعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ پارلیمان میں اپنی طاقت کو مزید مضبوط بنا سکے۔

انہوں نے کہاکہ"ان کے کچھ پوشیدہ مقاصد ہیں۔ وہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئین میں ترامیم لا سکیں۔"

مہدی نے دعویٰ کیا کہ دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت یکساں سول کوڈ، ایک ملک ایک انتخاب اور حلقہ بندی سے متعلق بلوں کو آگے بڑھا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ "پارلیمان میں حالیہ حلقہ بندی ترمیمی بل اس لیے منظور نہیں ہو سکا کیونکہ بی جے پی کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی۔ اسی لیے وہ ٹی ایم سی، شیو سینا اور دیگر جماعتوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ ان کی نظر ڈی ایم کے اور کئی دوسری جماعتوں پر بھی ہے۔"

مہدی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے، علاقائی تنوع اور اقلیتی برادریوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ہونے والی حلقہ بندیوں سے ہندی بولنے والی ریاستوں کو نسبتاً زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ چھوٹی اور جنوبی ریاستوں کا سیاسی اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق، "اگر ایسا ہوا تو اقلیتوں، تنوع اور ملک کے وفاقی نظام کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔"

روح اللہ مہدی نے کہا کہ وفاقیت، تنوع اور اقلیتوں کی نمائندگی کو کمزور کرنے والا کوئی بھی اقدام ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

 

Ads