قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 2 مارچ کو مرکزی وزیر محنت منسکھ مانڈویہ کی صدارت میں سنٹرل بورڈ آف ٹرسٹی (سی بی ٹی) نے مالی سال 2025-26 کے لیے ای پی ایف پر سود 8.25 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسے منظوری کے لیے وزارت خزانہ کو بھیجا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سی بی ٹی کے فیصلے کو منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب اس شرح سود کو 8.25 فیصد کی اسی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ سال 2022-23 میں ای پی ایف پر سود 8.15 فیصد تھا۔ حکومت نے مالی سال 2021-22 کے لیے ای پی ایف جمع پر شرح سود سال 2020-21 کے 8.50 فیصد سے گھٹا کر 8.10 فیصد کر دی تھی۔ یہ چار دہائیوں میں اس کی کم ترین سطح تھی۔ سال 2025-26 میں ای پی ایف کھاتہ داروں کی تعداد سات کروڑ سے زیادہ تھی۔
ای پی ایف او کے انتظام کے تحت 31.22 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ہیں۔ اس کے فنڈ کا 15 فیصد شیئرکی سکیورٹیز میں اور 85 فیصد سرکاری قرضہ جات (بانڈز) اور دیگر قابل اعتماد قرضہ جات کی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
