مسٹر مودی نے کہا کہ اے آئی ایک تبدیلی لانے والی طاقت ہے جس میں انسانی تہذیب کی سمت کو ازسرِ نو متعین کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے لوگوں کو بااختیار بنانے والا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ اسی وسیع سوچ کے ساتھ ہندستان نے حال ہی میں 'اے آئی امپیکٹ سمٹ' کی میزبانی کی تھی۔ وزیر اعظم نے اے آئی کے لیے ہندستان کے 'انسانی ' وژن کو اجاگر کیا، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی شمولیت، تحفظ اور عوامی مفاد کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان نے ہمیشہ سائبر اسپیس کو ایک عالمی عوامی اثاثے کے طور پر دیکھا ہے اور جمہوری ممالک کی ایسے اے آئی ماڈلز تک رسائی ہونی چاہیے جو ان کے اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنا سکیں اور انہیں سائبر خطرات سے نمٹنے میں مدد کر سکیں۔
انہوں نے اے آئی کی ترقی کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر کا مطالبہ کیا، جس میں تحفظ، رفتار اور کارکردگی پر بیک وقت توجہ دی جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چار تجاویز دیں: اے آئی سسٹمز کو 'سیف بائی ڈیزائن' (تعمیر کے مرحلے سے ہی محفوظ) ہونا چاہیے۔ اے آئی کے استعمال کے ساتھ ساتھ مشترکہ معیارات، ٹیسٹنگ فریم ورک اور ریگولیٹری رہنما خطوط ہونے چاہئیں۔ ڈیپ فیک، غلط معلومات اور سائبر فراڈ سے نمٹنے کے لیے موثر عالمی تعاون ہونا چاہیے اور ایک جامع دنیا کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی کے فوائد 'گلوبل ساؤتھ' کے ممالک تک پہنچنے چاہئیں۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانی صلاحیتوں کو وسعت دینا، انسانی انتخاب کو بااختیار بنانا اور انسانی وقار کا تحفظ کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندستان ان مقاصد کو فروغ دینے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھے گا۔
