اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران پیرس کے ورسلز پیلس میں دستخط کیے، جبکہ ایران کے صدر پزشکیان نے تہران میں اس پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں کے دستخط کے بعد ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے سے یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 14 نکاتی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ تاہم امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا لازمی نہیں ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے چار ماہ بعد طے پایا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو کارکردگی پر مبنی قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایران کو فائدہ تبھی ہوگا جب وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران میں جنگ ختم ہوگی اور لبنان میں بھی تنازعہ ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکہ کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی ذکر ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر مسٹر ٹرمپ کے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے بدھ کو لکھا کہ صدر ٹرمپ نے آج رات ورسلز میں ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ دیرپا امن کی راہ ہموار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہمارے ہم وطنوں کے لیے درست سمت میں ایک ضروری قدم ہے جس سے جلد ہی توانائی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
8. ایران دوبارہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ دونوں فریقین آئی اے ای اے کی نگرانی میں جوہری مواد کے ذخائر کو تلف کرنے یا ان کی سطح کو کم کرنے (ڈاؤن بلینڈنگ) کے طریقہ کار پر متفق ہوئے ہیں۔9. حتمی معاہدے تک دونوں فریقین موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ سطح پر رہے گا جبکہ امریکہ مزید کوئی پابندی نہیں لگائے گا اور نہ ہی علاقے میں اضافی فوج تعینات کرے گا۔
10. ایم او یو پر دستخط کے ساتھ ہی ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اور متعلقہ بینکنگ و انشورنس خدمات پر عائد پابندیوں میں چھوٹ دی جائے گی۔11. معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ایران کے منجمد یا زیر پابندی فنڈز کو استعمال کے لیے مکمل طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔
12. اس معاہدے اور بعد میں ہونے والے حتمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔13. مذکورہ بالا اہم نکات (1، 4، 5، 10 اور 11) کے نفاذ کے بعد امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
14. حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔
