Masarrat
Masarrat Urdu

جی-7: افریقہ، لاطینی امریکہ اور بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے 'کنیکٹیوٹی' پر مودی کا زور

  • 17 Jun 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

نئی دہلی، 17 جون (مسرت ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 ممالک کو افریقہ، لاطینی امریکہ اور بحر الکاہل (پیسفک) کے جزائر والے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے ایک 'کنیکٹیوٹی پروجیکٹ' ’انٹرنیشنل موبلائزیشن پارٹنرشپ فار ایکسیلیریٹنگ کنیکٹیوٹی اینڈ ٹریڈ‘ (امپیکٹ) بنانے کا مشورہ دیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بدھ کو فرانس کے ایویاں شہر میں جی-7 ممالک کے 52 ویں سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر ’سب کے لیے متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی‘ کے موضوع پر آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک میں بوڑھوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں نوجوان ٹیلنٹ اور ہنر (اسکلز) موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ’گلوبل اسکلز پارٹنرشپ‘ بنائی جا سکتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ امپیکٹ پروجیکٹ انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور (آئی میک) کی طرز پر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی-7 کا سرمایہ، ہندوستان کا ٹیلنٹ اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی شراکت داری کو ملا کر یہ کنیکٹیوٹی پروجیکٹ بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے سیشن میں شرکت کے بعد سوشل میڈیا پر یکے بعد دیگرے کئی پوسٹ میں کہا، ”ایویاں میں جی-7 سمٹ میں 'سب کے لیے متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی پر آؤٹ ریچ سیشن' سے خطاب کیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ جی-7 نے فرانس کی صدارت میں اس موضوع کو اہمیت دی ہے۔ آج سچائی یہ ہے کہ جب ترقی کی بات آتی ہے، تو سوال جی ڈی پی یا تجارت کے اعداد و شمار کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے - ترقی کس کے لیے، کس کے ساتھ اور کس سمت میں؟“ مسٹر مودی نے کہا، ”آئی میک کے وژن کی طرح، کیا ہم افریقہ، لاطینی امریکہ اور بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کے ساتھ کنیکٹیوٹی پروجیکٹس پر کام کر سکتے ہیں؟ جی-7 کا سرمایہ، ہندوستان کا ٹیلنٹ اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی شراکت داری کو ملا کر، ہم کنیکٹیوٹی اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک 'انٹرنیشنل موبلائزیشن پارٹنرشپ فار ایکسیلیریٹنگ کنیکٹیوٹی اینڈ ٹریڈ' (امپیکٹ) بنانے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔“

دنیا کے کئی ممالک میں بوڑھوں کی آبادی بڑھنے اور ترقی پذیر ممالک میں نوجوان ٹیلنٹ اور ہنر کی بھرمار کا مل کر فائدہ اٹھانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”آج، کئی معاشرے 'ایجنگ سوسائٹی' (بوڑھی ہوتی آبادی والے معاشرے) بن رہے ہیں، جبکہ ہندوستان اور گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک میں نوجوان ٹیلنٹ، انٹرپرینیورشپ (صلاحیت) اور ہنر کی فراوانی ہے۔ اس قدرتی تکمیلی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے، ایک 'گلوبل اسکلز پارٹنرشپ' بنانے کی اپیل کی، جہاں ہم اسکل میپنگ اور قابل اعتماد ہنرمند لوگوں کی آمد و رفت کو فروغ دینے پر مل کر کام کر سکیں۔“

 

Ads