ٹیلی گرام کمپنی نے یہ قدم نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی ایپ تک رسائی کو روکنے کے مرکز کے فیصلے کے اعلان کے ایک دن بعد اٹھایا ہے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایسے خدشات تھے کہ اس ایپ کا استعمال امتحان کے سوالناموں کو لیک کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر ٹیلی گرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پاویل ڈوروف نے اس پابندی کو ایک ”غلطی“ قرار دیا ہے اور دلیل دی ہے کہ ہندوستان کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کا یہ قدم ”کچھ بھی نہیں روک پائے گا“، کیونکہ لیک کے ذمہ دار لوگ پہلے ہی دوسری ایپس پر جا چکے ہیں۔
مسٹر ڈوروف نے کہا، ”گزشتہ چند ہفتوں میں، ہم نے ہندوستان میں لیک ہوئے امتحانی مواد اور اس سے جڑے گھوٹالوں کو شیئر کرنے والے سینکڑوں چینلز کو ہٹا دیا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ٹیلی گرام اپنے ”ایڈیٹڈ“ (ترمیم شدہ) لیبل کو مزید واضح بنا رہا ہے تاکہ پچھلی تاریخوں میں کیے جانے والے گھوٹالوں کو روکنے میں مدد مل سکے۔
قابل ذکر ہے کہ منگل کو، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے امتحان سے جڑی بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے لیے ہندوستان میں ٹیلی گرام ایپ تک رسائی کو 22 جون تک کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ این ٹی اے نے کہا کہ حکومت نے ایپ کو پہلے بھیجے گئے پیغامات کے لیے میسج ایڈٹنگ کی سہولت کو 30 جون تک غیر فعال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امتحان کے انعقاد کے بعد ”پیپر لیک“ کے فرضی ثبوت تیار کرنے کے لیے اس پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ دونوں اقدامات ”عوامی نظم و نسق کے مفاد میں، امیدواروں کو ٹھگنے کے لیے نقل کرنے والے گروہوں کے ذریعے اس پلیٹ فارم کے منظم استعمال کے جواب میں“ کیے گئے ہیں۔
