تہران، 17 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کریں تو ایران دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے سپریم کورٹ کے ججوں اور عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، تاہم ملک مکمل طور پر چوکس رہے گا اور دشمن کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس غدار، شرپسند اور مجرم دشمن پر کسی بھی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں ہر وقت ہوشیار رہنا ہوگا اور ہم ہیں بھی۔ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ اس کا سامنا کس سے ہے۔
غلام حسین محسنی اژہ ای نے مزید کہا کہ جمعہ کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران اگر دشمن اپنے وعدوں سے پھر گیا تو ایران دوبارہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہوگا۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور ملک پر عائد پابندیوں کے خاتمے سمیت مختلف امور زیر بحث آئیں گے۔
ایرانی چیف جسٹس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شریک ایرانی نمائندے کسی بھی مرحلے پر ایرانی عوام کے حقوق اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
