Masarrat
Masarrat Urdu

جے رام رمیش نے مودی سے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ملاحوں کی ہلاکت اور تجارتی خدشات کا معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 14 جون (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی آئندہ ملاقات میں عمان کے ساحل کے قریب امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ حالیہ گفتگو میں استعمال کی گئی مبینہ دھمکی آمیز زبان پر بھی بات کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی پوسٹ میں رمیش نے کہا کہ ہندوستانی عوام اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا وزیر اعظم مودی امریکی صدر کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقات کے دوران ہندوستان کے تحفظات کو مضبوطی سے پیش کرتے ہیں یا نہیں، جنہیں انہوں نے وزیر اعظم کا "خود ساختہ اچھا دوست" قرار دیا۔

رمیش نے لکھاکہ "وزیر اعظم مودی جلد ہی اپنے خود ساختہ اچھے دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ تمام ہندوستانی شہریوں کے ذہن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا وزیر اعظم (1) عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز پر امریکی حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر بھارت کی شدید مذمت کا اظہار کریں گے اور (2) 12 جون 2026 کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ایس جے شنکر سے گفتگو میں استعمال کی گئی دھمکی آمیز اور انتہائی ناقابل قبول زبان کا معاملہ اٹھائیں گے۔"

کانگریس رہنما نے امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے حوالے سے بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر جلد ہی دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔

رمیش نے یاد دلایا کہ 3 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ نے جس عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا تھا، وہ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی کی خصوصی درخواست پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس انتظام کے تحت بھارت نے بڑی رعایتیں دی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ "باہمی اور مفید تجارت کے عبوری معاہدے کا فریم ورک صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا اور ان کے مطابق یہ وزیر اعظم مودی کی خصوصی درخواست پر کیا گیا تھا۔"انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے چین کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر تنقید کا سامنا تھا۔

رمیش کے مطابق مجوزہ تجارتی انتظام بھارت کے زرعی اور صنعتی شعبوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا، "یہ معاہدہ دراصل ایک سودے سے زیادہ لوٹ مار کے مترادف تھا، جس میں مودی حکومت نے یکطرفہ طور پر ایسی بڑی رعایتیں دیں جو ہمارے کسانوں اور صنعتوں کے لیے خطرہ ہیں۔"

کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے امریکہ میں حالیہ پیش رفت کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ بعض ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ کے ٹیرف نظام کے خلاف قانونی چیلنجز کے بعد ان تجارتی انتظامات پر نظر ثانی کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت تجارتی مذاکرات اور امریکہ سے درآمدات بڑھانے کے مبینہ وعدوں پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔

رمیش نے کہاکہ "مودی حکومت نہ صرف اس تجارتی معاہدے سے دستبردار ہونے میں ناکام رہی ہے جو کروڑوں بھارتی کسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، بلکہ وہ اس وقت بھی خاموش اور بے بس بیٹھی ہے جب وزیر خارجہ روبیو یہ اعلان کر رہے ہیں کہ مودی حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جو درحقیقت امریکہ سے ہماری سالانہ درآمدات کو دوگنا کر دے گا۔"

انہوں نے نئی دہلی سے سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت اور تجارتی معاہدے سے متعلق خدشات کے پیش نظر امریکی تجارتی نمائندے کے مجوزہ دورے کو ملتوی کر دینا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ "روبیو-جے شنکر گفتگو، امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ٹیرف نظام کو کالعدم قرار دیے جانے اور اس تجارتی معاہدے کی واضح غیر منصفانہ نوعیت کے پیش نظر کم از کم بھارت کو امریکی تجارتی نمائندے کے دورے کو مؤخر کر دینا چاہیے۔"

رمیش نے مزید کہا کہ بھارت کو اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے زیادہ مضبوط اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے لکھاکہ "کوئی بھی خوددار قوم اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے محض فون کالز اور پریس بیانات پر اکتفا نہیں کرتی۔"

یہ بیان عمان کے قریب امریکی فوجی کارروائی میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مودی حکومت پر کانگریس پارٹی کی بڑھتی ہوئی تنقید کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران کانگریس کے رہنماؤں راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے اور پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اس واقعے پر حکومت کے ردعمل پر سوالات اٹھائے ہیں، بھارت کی خودمختاری کے مؤثر دفاع میں ناکامی کا الزام لگایا ہے اور ملاحوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ بھارت-امریکہ تعلقات کے وسیع تر رخ پر زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
 

Ads