Masarrat
Masarrat Urdu

عالمی برادری ہندوستان کے ساتھ مل کر عالمی جدت کے اگلے باب کی تخلیق کرے: مودی

Thumb

نئی دہلی، 14 جون (مسرت ڈاٹ کام) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، محققین، جامعات اور صنعت کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانیت کی بھلائی کے لیے نئی ایجادات اور مسائل کے حل تلاش کرنے میں ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جدت طرازی ہندوستان کے "ڈی این اے" میں شامل ہے اور اس نے ہزاروں برسوں سے اپنے علم اور اختراعات کے ذریعے دنیا کو نئی سمت دی ہے۔

فرانس کے دورے پر موجود مودی نے اتوار کو فرانسیسی شہر نیس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مل کر "انڈیا اِنوویٹ" نمائش کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جدت طرازی ہندوستان کی فطرت اور تہذیب میں رچی بسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ "ہزاروں برسوں سے ہندوستان نے اپنے علم اور اختراعات کے ذریعے دنیا کو نئی راہیں دکھائی ہیں۔ ریاضی سے لے کر فلکیات تک، طب سے لے کر یوگا تک، بھارت کا کردار پوری انسانیت کی ترقی کی بنیاد رہا ہے۔ آج ہم نے اسی ورثے کو نئی رفتار اور نئی سمت دی ہے۔"

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ 11 سے 12 برسوں میں بھارت نے جدت طرازی کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دیا ہے۔ پیٹنٹ درخواستوں سے لے کر اختراعات کے فروغ کے مراکز کے نیٹ ورک تک، "اسٹارٹ اپ انڈیا" سے لے کر پالیسی معاونت تک، یہ پورا سفر مشن موڈ میں آگے بڑھا ہے۔ آج بھارت دنیا کا تیسرا بڑا اختراع پر مبنی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن چکا ہے۔

دفاع، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کے نتیجے میں ہونے والی جدت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی یہ رفتار رکنے والی نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھتی رہے گی۔

انہوں نے کہاکہ "ایک دہائی قبل دنیا بھارت کو ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک کے طور پر دیکھتی تھی، لیکن آج بھارت ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بھارت جو بھی اختراع کرتا ہے اور جو بھی حل پیش کرتا ہے، اس سے انسانیت کے ایک بہت بڑے طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے۔"

دنیا بھر کے ماہرین سے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ "بھارت عالمی برادری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر عالمی جدت کے اگلے باب کی تخلیق کرے۔ ہم شراکت داری چاہتے ہیں، ہم مشترکہ ترقی چاہتے ہیں، ہم مشترکہ تحقیق چاہتے ہیں، ہم مشترکہ پیداوار چاہتے ہیں اور ہم طویل مدتی تعاون کے خواہاں ہیں۔"انہوں نے مزید کہاکہ "میں یہاں موجود ہر سرمایہ کار، ہر یونیورسٹی، ہر تحقیقی ادارے اور ہر صنعت کار کو دل کی گہرائیوں سے دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھارت آئیں، ہمارے ساتھ کام کریں، بھارت میں تصورات کو حقیقت کا روپ دیں، یہاں ترقی کریں اور پوری دنیا کے لیے حل تیار کریں۔"

فرانس کے ساتھ بھارت کے خصوصی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دنیا میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں اور اسٹریٹجک شراکت داریاں بھی قائم کرتے ہیں، لیکن بعض تعلقات صرف مشترکہ مفادات ہی نہیں بلکہ مشترکہ وژن پر بھی قائم ہوتے ہیں، اور بھارت و فرانس کا تعلق اسی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے کہاکہ "اس تعلق میں قربت بھی ہے اور پختہ یقین بھی، اس میں جدت بھی ہے اور تحریک بھی، اس میں مشترکہ اقدار بھی ہیں اور مشترکہ وژن بھی۔"

مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے اسی مضبوط بنیاد پر گزشتہ برسوں میں متعدد نئی پہلوں کا آغاز کیا، نئے خیالات کو فروغ دیا اور عالمی چیلنجز کے حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ "بھارت اِنوویٹ" کا یہ پلیٹ فارم بھارتی صلاحیتوں اور یورپی سرمایہ کاری کی قوت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

 

 
 

Ads