ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی بھی قسم کی مس کیلکولیشن کا شکار نہیں ہونا چاہیے، امن و استحکام کا راستہ داخلی محاذ کی مضبوطی اور جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے، تو جنگ آپ کے دروازے پر دستک دے گی، جنگ بندی کے بعد ایرانی افواج نے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ اور نقصانات کا ازالہ کر لیا ہے۔
ابراہیم رضائی نے کہا کہ ہم 9 مارچ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گے، جب تک دشمن اپنی سوچ، حکمتِ عملی میں تبدیلی نہ لے آئے۔
