ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن مجموعی طور پر 14 وکٹیں گریں، جہاں چائے کے وقفے کے بعد افغان ٹیم ہندوستانی بالرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور آخری 4 وکٹیں صرف 14 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ افغانستان کے بلے باز شرف الدین اشرف انجری کے باعث دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ اتر سکے۔چائے کے وقفے تک افغانستان نے 98 رنز پر اپنے 5 ٹاپ آرڈر بلے باز گنوا دیے تھے۔ وقفے کے بعد کھیل شروع ہوتے ہی ہندوستانی با لرز افغان لوئر آرڈر پر ٹوٹ پڑے۔ 32ویں اوور میں ڈیبیو کرنے والے مانو ستھار نے افسر زازئی (8 رنز) کو آؤٹ کر کے بھارت کو چٹھی کامیابی دلائی۔ عظمت اللہ عمرزئی (4 رنز) کو واشنگٹن سندر نے پویلین کی راہ دکھائی۔36ویں اوور کی چوتھی اور پانچویں گیند پر کلدیپ یادو نے ننگیالیہ خروٹی (6) اور محمد سلیم (0) کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کر کے 112 رنز پر افغان اننگز کا کام تمام کر دیا۔افغانستان کی جانب سے دوسری اننگز میں صدیق اللہ اٹل 42 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ ہندوستان کی طرف سے واشنگٹن سندر نے 4، کلدیپ یادو نے 3، جبکہ مانو ستھار اور محمد سراج نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔یہ ٹیسٹ میچ راجستھان سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے نوجوان اسپنر مانو ستھار کے خوابوں کے ڈیبیوکے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ پہلی اننگز میں ان کے 6 وکٹوں کے تباہ کن اسپیل کی بدولت ہی ہندوستان نے افغانستان کو محض 152 رنز پر سمیٹ کر 412 رنز کی پہاڑ جیسی برتری حاصل کی تھی اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔
