Masarrat
Masarrat Urdu

انڈیا اتحاد نے حکومت سے معاشی صورتحال پر آل پارٹی میٹنگ بلانے اور پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 08 جون (مسرت ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ کے پیپر لیک ہونے اور سی بی ایس ای میں بے ضابطگیوں کے معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال پر غور کرنے کے لیے حکومت کو کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہیے۔

انڈیا اتحاد کی پیر کو یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ میٹنگ میں پانچ نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے، جس میں انڈیا اتحاد کے لیڈروں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہر دو ماہ میں ایک میٹنگ کا انعقاد شامل ہے۔ اس فیصلے کے تحت اتحاد کا اگلی میٹنگ 8 اگست کو حیدرآباد میں منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ 'ووٹ کی چوری' اور انتخابات میں ہیرا پھیری کے حوالے سے ملک کے چیف جسٹس کو ایک خط بھیجا جائے۔ یہ خط بہت جلد لکھ کر ان تک پہنچا دیا جائے گا۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ وزیر تعلیم کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

مسٹر کھرگے نے کہا کہ میٹنگ میں حکومت سے ملک کی معاشی صورتحال اور سماجی مسائل پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "مرکزی حکومت کو فوری طور پر تمام جماعتوں کی میٹنگ بلانی چاہیے تاکہ موجودہ غیر مستحکم معاشی صورتحال، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، مظالم اور دیگر عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔" کانگریس صدر نے مزید کہا کہ میٹنگ میں یہ بھی طے پایا ہے کہ تمام جماعتوں کے لیڈروں کو ہر دو ماہ بعد ملنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مانسون سیشن کے دوران پارلیمانی ہم آہنگی جاری رہے گی، جس کے تحت روزانہ پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن لیڈر کے دفتر میں میٹنگیں ہوں گی۔

میٹنگ میں مسٹر کھرگے کے علاوہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، آر جے ڈی لیڈر تیجشوی یادو، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی لیڈر محترمہ سپریا سلے، این کے پریم چندرن، کپل سبل، بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈروں اور دیگر اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مسٹر کھرگے نے بتایا کہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں حصہ لیا۔

 

Ads