تہران، 7 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایران نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے خصوصی اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کو عالمی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے جوہری تنصیبات پر ہر قسم کے حملوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے خصوصی اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایجنسی کی حفاظتی نگرانی کے تحت موجود جوہری مراکز پر ہونے والے سب سے وسیع اور غیر معمولی حملے قرار دیا ہے۔
ایرانی وفد نے کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملوں یا دھمکیوں کو معمول کا عمل بنانا عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ وفد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اختیار کی جائے۔
اجلاس میں ایرانی نمائندوں نے یاد دلایا کہ 1981 میں عراق کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بعد آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز اور جنرل کانفرنس متعدد قراردادوں کے ذریعے یہ واضح کرچکے ہیں کہ حفاظتی نگرانی میں موجود جوہری مراکز پر حملہ یا حملے کی دھمکی اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور آئی اے ای اے کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وفد کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 12 روزہ جنگ اور رمضان جنگ کے دوران مجموعی طور پر 17 مراحل میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان میں سب سے خطرناک حملہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب کیا گیا، جو ری ایکٹر سے تقریباً 350 میٹر کے فاصلے پر ہوا اور جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ بوشہر پاور پلانٹ پر براہِ راست حملہ ماحول میں تابکار مواد کے وسیع اخراج کا سبب بن سکتا ہے، جس کے تباہ کن علاقائی اور بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے۔
ایران نے مزید کہا کہ ایسے حملوں سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور آئی اے ای اے کے بنیادی اصول کمزور پڑتے ہیں اور عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام، خصوصاً حفاظتی نگرانی کے طریقۂ کار کی ساکھ متاثر ہوجاتی ہے۔
ایرانی وفد نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ سیاسی مصلحتوں اور دوہرے معیار سے گریز کریں، جوہری تنصیبات پر حملوں کو معمول بنانے کی کوششوں کی مخالفت کریں اور ضرورت پڑنے پر ایسے حملوں اور دھمکیوں کو روکنے کے لیے نئے بین الاقوامی ضوابط وضع کریں۔
