تہران، 7 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو وسعت دیتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مومنی نے کہا کہ پاکستان ایران کا دوست، برادر اور ہمسایہ ملک ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے دینی، ثقافتی اور تاریخی روابط موجود ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت بھی مشترکہ تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی اہمیت پر زور دیتی رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں سرحدی سیکورٹی، منشیات کی اسمگلنگ کے انسداد، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دیگر دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مومنی کے مطابق اقتصادی شعبے میں بھی اہم فیصلے کیے گئے اور دونوں ممالک نے تجارت کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو سراہا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ نوعیت کے ہیں اور ایک ملک کو درپیش مشکلات دوسرے ملک کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ علاقائی بحران سفارتی کوششوں کے ذریعے جلد حل ہوجائیں گے۔
پاکستانی وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ وہ شہباز شریف اور عاصم منیر کی جانب سے ایک خصوصی پیغام لے کر تہران آئے ہیں، جو ایران کی اعلی قیادت کے نام ہے۔ انہوں نے اس پیغام کو موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سفارتی رابطے کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
واضح رہے کہ محسن نقوی ہفتے کی شب تہران پہنچے، جہاں ان کا استقبال اسکندر مومنی نے کیا۔ ان کے دورے کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ اپنے قیام کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے بھی ملاقات اور مذاکرات کریں گے۔
