Masarrat
Masarrat Urdu

ہندوستان نیپال کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا خواہاں : مودی

Thumb

نئی دہلی، 03 جون (مسرت ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان نیپال کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آ رہی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں کام کرنے کا خواہشمند ہے۔

نیپال کی برسرِاقتدار 'راشٹریہ سوتنتر پارٹی' (آر ایس پی) کے چیئرمین روی لامیچھانے نے بدھ کے روز یہاں مسٹر مودی سے ملاقات کی۔ بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس کی معلومات دی۔ وزیر اعظم نے کہا، "نیپال کی راشٹریہ سوتنتر پارٹی کے چیئرمین روی لامیچھانے سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ایک مشترکہ اور خوشحال مستقبل کے لیے مل کر کام کرنے کی ان کی خواہش کا میں خیر مقدم کرتا ہوں اور پوری طرح اس کی حمایت کرتا ہوں۔"

نیپال کو ہندوستان کی جانب سے دی جانے والی اہمیت کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، "نیپال ہماری 'پڑوسی مقدم ' پالیسی کے تحت ایک ترجیحی شراکت دار ہے اور ہم وہاں کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرامید ہیں، تاکہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اور کثیر جہتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جایا جا سکے۔" اس سے قبل مسٹر لامیچھانے نے منگل کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر لامیچھانے کی قیادت میں نیپال کا ایک وفد پانچ روزہ دورے پر ہندوستان آیا ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان اور نیپال باہمی رابطہ (کنیکٹیویٹی)، توانائی، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سطح پر روابط جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے لگاتار کوششیں کر رہے ہیں۔ ہندوستان اور نیپال کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کھلی سرحد اور قریبی تہذیبی روابط کی وجہ سے اس رشتے کو اکثر منفرد قرار دیا جاتا ہے۔ آر ایس پی نیپال میں ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے، جو وہاں سیاسی اصلاحات اور گڈ گورننس پر مبنی سیاست کے بڑھتے ہوئے مطالبے کو ظاہر کرتی ہے۔ مسٹر مودی کے تبصروں کو نیپال کی بدلتی ہوئی سیاسی قیادت کے ساتھ جڑنے اور دو طرفہ تعاون کی رفتار کو برقرار رکھنے کے تئیں ہندوستان کے عزم کی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہندوستان نے 'پڑوسی مقدم ' پالیسی کے تحت اپنی علاقائی پہنچ کے مرکز میں لگاتار نیپال کو رکھا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ترقیاتی امداد، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور بڑھے ہوئے اقتصادی انضمام کے ذریعے جنوبی ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔

 

Ads