Masarrat
Masarrat Urdu

دہلی کے مالویہ نگر کے ایک ریستوراں میں بھیانک آتش زدگی،20 لوگوں کی موت،27کوبچایاگیا

Thumb

نئی دہلی، 03 جون (مسرت ڈاٹ کام) راجدھانی کے مالویہ نگر علاقے میں بدھ کی صبح ایک ریستوراں میں بھیانک آگ لگنے سے کم از کم 20 لوگوں کی موت ہو گئی، جن میں زیادہ تر افریقی نژاد شہری تھے۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں، پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد سے 27 افراد کو بحفاظت نکال کر قریبی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

مقامی بی جے پی ایم ایل اے ستیش اپادھیائے نے کہا کہ جس عمارت میں یہ حادثہ ہوا، وہاں کچھ غیر ملکی شہریوں کے بھی ٹھہرے ہونے کی اطلاع ہے۔ مسٹر اپادھیائے نے کہا، "میری پہلی ترجیح بچاؤ مہم ہے۔ کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ اگر جانچ میں یہ پایا گیا کہ مالک ضروری لائسنس کے بغیر کام کر رہا تھا یا کسی دوسری سطح پر لاپروائی ہوئی ہے، تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔"

ابتدائی معلومات کے مطابق، 'لیمن گرین ریستوراں ' کو صرف چھ کمروں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن وہاں 25 کمرے موجود تھے۔ اس مبینہ بے ضابطگی نے ریگولیٹری نگرانی اور اجازت کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ عمارت کا بیسمنٹ باہر سے بند تھا۔ بچاؤ ٹیم نے تالا توڑ کر اندر پھنسے لوگوں کو باہر نکالا۔ جان بچانے کے لیے کئی لوگوں نے کھڑکیوں سے چھلانگ بھی لگائی۔ یہ واقعہ ساکیت پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

دہلی فائر سروس (ڈی ایف ایس) کے مطابق، مالویہ نگر میں واقع لیمن گرین ریستوراں میں آگ لگنے کی اطلاع صبح تقریباً نو بجے ملی۔ ابتدائی مرحلے میں فائر بریگیڈ کی سات گاڑیوں کو موقع پر بھیجا گیا، جبکہ بعد میں امدادی اور بچاؤ کاموں کو تیز کرنے کے لیے 10 اضافی گاڑیاں روانہ کی گئیں۔

فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صبح پونے دس بجے تک بیسمنٹ سے تین لوگوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا۔ اس کے بعد صبح تقریباً 11:20 بجے اطلاع ملی کہ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں، پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد سے 25 دیگر افراد کو بھی بچا کر ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ دو اور لوگوں کو دوپہر تک نکال لیا گیا، جس سے بچائے گئے لوگوں کی کل تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔

مقامی پولیس اور دیگر ہنگامی ایجنسیوں کی ٹیموں کو بھی امدادی کاموں میں لگایا گیا۔ بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی اور جائے وقوعہ تک رسائی کو محدود کر دیا گیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا نے اس واقعے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

 

Ads