کمپنی نے منگل کی رات ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ "بین الاقوامی فضائی حدود سے متعلق جاری پابندیوں کے باعث پروازوں کے دورانیے میں نمایاں اضافہ اور لاگت کی مشکل صورتحال" کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کمپنی نارس اٹلانٹک ایئرویز سے ڈیمپ/ویٹ لیز پر حاصل کیے گئے چھ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں میں سے ایک طیارہ واپس کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔
دیگر تمام طویل فاصلے کی پروازیں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہیں گی۔
ایئرلائن کا کہنا ہے کہ جن مسافروں نے پہلے سے ٹکٹ بک کرا رکھے ہیں، انہیں پیشگی اطلاع دی جائے گی اور دستیاب تمام متبادل سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں متبادل سفری انتظام یا قابلِ اطلاق ہونے کی صورت میں رقم کی واپسی بھی شامل ہے۔
انڈیگو نے سال 2025 کے آغاز میں نارس اٹلانٹک ایئرویز سے چھ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے ڈیمپ لیز پر حاصل کیے تھے۔ اس کا مقصد اپنے ایئربس اے350 طیارے موصول ہونے سے پہلے ہی یورپی مارکیٹ میں برانڈ کی حکمتِ عملی کے تحت موجودگی مضبوط بنانا تھا۔
اسی دوران، مغربی ایشیا کے بحران، فضائی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت، فضائی حدود سے متعلق پابندیاں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل گرتی قدر لاگت میں نمایاں اضافے کا سبب بن گئی ہیں۔
انڈیگو کے سینئر نائب صدر (نیٹ ورک پلاننگ و ریونیو مینجمنٹ) ابھیجیت داس گپتا نے کہاکہ "ہم نے ان وائیڈ باڈی طیاروں کو قلیل مدتی بنیاد پر شامل کیا تھا تاکہ مانچسٹر جیسے زیادہ امکانات والے طویل فاصلے کے مقامات کے لیے اپنی رابطہ سہولت تیزی سے بڑھا سکیں۔ ہمیں مسافروں کی جانب سے بہت حوصلہ افزا ردعمل ملا۔ اس لیے یہ افسوسناک ہے کہ فضائی حدود کی پابندیوں کے باعث بڑھتے ہوئے پرواز کے وقت اور تیزی سے بڑھتی لاگت نے ہمیں ہند–مانچسٹر خدمات عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔"
