ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ ہند-نیپال سرحد کا تقریباً 98 فیصد حصہ پہلے ہی متعین کیا جا چکا ہے، جبکہ چند مقامات پر تنازع کا حل ابھی باقی ہے۔
وزارتِ خارجہ ہند کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اس معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں زور دے کر کہا کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان دوطرفہ معاملات میں کسی بھی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہے، اور دونوں ہمسایہ ممالک نے سرحدی امور کے تمام پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ نظام قائم کر رکھا ہے۔
ترجمان نے کہاکہ "ہم نے ہند-نیپال سرحد سے متعلق نیپال کے وزیرِاعظم کے بیانات اور بعد میں نیپالی وزارتِ خارجہ کے بیان کو دیکھا ہے۔ اگرچہ ہند-نیپال سرحد کے تقریباً 98 فیصد حصے کی حد بندی پہلے ہی ہو چکی ہے، لیکن کچھ حصے ایسے ہیں جن کا تصفیہ ابھی باقی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ گنڈک ندی کے راستے میں تبدیلی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سرحد کے متعین حصوں میں قبضے اور "نو مینز لینڈ" (غیر متعین علاقے) پر تجاوزات کے چند معاملات بھی ہیں، جن کی اس وقت مشترکہ طور پر نقشہ سازی کی جا رہی ہے۔
رندھیر جیسوال نے کہاکہ "ہم نے سرحدی معاملات کے تمام پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ نظام قائم کیا ہے۔ تمام فریقوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہند اور نیپال کے درمیان دوطرفہ معاملات میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہے۔"
رپورٹس کے مطابق بالیندر شاہ نے تجویز دی تھی کہ سرحدی معاملات پر ہونے والی بات چیت میں برطانیہ اور چین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نیپال کی حکمران جماعت راشٹریہ سواتنتر پارٹی کے صدر روی لامیچھانے ہندوستان کے دورے پر ہیں اور ان کی کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت متوقع ہے۔
