امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے والے اسرائیلی وزیر اعظم کو پاگل قرار دے دیا اور غصے سے کہا ’’میں تمھاری کھال بچا رہا ہوں۔‘‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ٹیلی فونک گفتگو میں پاگل اور ناشکرا قرار دیا اور کہا کہ اگر اس نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یہ بھی باور کرایا کہ ’’میں نہ ہوتا تو تم ابھی جیل میں ہوتے، میں تمھاری چمڑی بچا رہا ہوں۔‘‘ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دوران گفتگو صدر ٹرمپ ایک بار شدید طیش میں آ کر نیتن یاہو پر چلا اٹھے کہ تم کیا احمقانہ کام کر رہے ہو، صرف ایک حزب اللّٰہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتیں تباہ اور لبنانی شہریوں کا قتل عام کر رہے ہو، ہر شخص اب تم سے اور اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔
ٹرمپ کے تذلیلانہ جملوں پر نیتن یاہو صرف اوکے، اوکے کہتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد دی، جس کا اشارہ نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں ان کی حمایت کی جانب تھا۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پیر کو ہی ایران نے لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے باعث امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی دی تھی۔
پس منظر سے آگاہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر وہ بیروت پر بمباری کی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر اسرائیل مزید تنہا ہو جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اس بات سے آگاہ تھے کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے کر رہی ہے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ان کا خیال تھا کہ حالیہ دنوں میں نیتن یاہو غیر متناسب انداز میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔
بیروت پر حملے کی دھمکیوں کے علاوہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ ایک اور امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ لبنان میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں پر بھی تشویش رکھتے تھے اور انھوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ اسرائیلی فوج ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارتیں گرا رہی ہے۔
دریں اثنا ایک اسرائیلی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ اسرائیل اب بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی کئی کشیدہ گفتگوئیں ہو چکی ہیں، تاہم ایران اور دیگر معاملات پر دونوں رہنما قریبی رابطے میں رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اقتدار میں واپسی کے بعد نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی یہ ٹرمپ کی سخت ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ لبنان میں نیتن یاہو کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے فیصلے سے ایران کے ساتھ ان کے مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ گفتگو کے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’’تیزی سے جاری‘‘ ہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے گفتگو کے بعد جاری بیان میں کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملے بند نہیں کرتی تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا، جب کہ اس دوران جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ’’ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔‘‘ تاہم ایک دوسرے امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں اس گفتگو کے دوران ٹرمپ کا مؤقف غالب رہا۔ عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو نے جواب میں کہا ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس یہ یقینی بنائیں کہ تمام معاملات سنبھال لیے جائیں۔‘‘ امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ مذاکرات مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں لڑائی کے خاتمے کی شق شامل ہے اور یہی معاملہ اس سے قبل بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایک کشیدہ گفتگو کا سبب بن چکا ہے۔
