راہل گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا، "سی بی ایس ای کی غلطی سے نمبر غلط آئیں تو اس کی قیمت طلبہ کو چکانی پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل اسکین کاپی، ری ٹو ٹلنگ اور ری ایویلیوایشن کے لیے الگ الگ فیس دینی پڑتی ہے۔ اپنے ہی پرچے کی صحیح جانچ کرانے کے لیے ایک طالب علم کو ہزاروں روپے تک خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔"
انہوں نے الزام لگایا کہ جانچ کے عمل میں خامیوں کا بوجھ طلبہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی سی بی ایس ای کرتا ہے اور اس کی سزا بچے کو ملتی ہے اور حکومت اس سے کمائی کرتی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا "جب تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا جاتا ہے تو غلطیاں سدھرنے کے بجائے نظام کا حصہ بن جاتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی قیمت بچوں کو اپنے وقت، خود اعتمادی اور مستقبل سے چکانی پڑتی ہے۔"
واضح رہے کہ سی بی ایس ای بورڈ امتحان کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد پرچے کی ڈیجیٹل کاپی، دوبارہ گنتی اور دوبارہ جانچ کی سہولت فیس پر فراہم کرنے کے تعلق سے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوئی ہے، جس ہر راہل گاندھی نے یہ تبصرہ کیا ہے۔
