پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرچہ لیک اور اسے روکنے کے لیے کیے جانے والے غیر موثر اقدامات کے لئے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طورپر اب ملک کو ایک تعلیم یافتہ وزیراعظم کی ضرورت ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت نیٹ پیپر لیک کی اصل وجوہات تک پہنچنے کے بجائے ان بڑھوں جیسی باتیں کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیٹ میں پیپر لیک روکنے کے لئے فضائیہ کے طیارے استعمال کیے جائیں گے۔ کیا اس سے پیپر لیک رکے گا؟ انہوں نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پیپر لیک روکنے کی حکومت کی نیت ہی نہیں ہے۔ آج ملک کا تعلیمی نظام مکمل طور پر مافیا کے شکنجے میں آ چکا ہے اور اگر اس نظام کو درست کرنا ہے تو سب کو مل کر کچھ کرنا ہوگا۔
مسٹر کیجریوال نے ہفتہ کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ خود آئی آئی ٹی سے انجینئر ہیں اور تعلیم کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہر بچے کو معیاری تعلیم نہیں ملے گی، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ جمعہ کو ہمارے ملک کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب نیٹ کے پیپر کو لیک ہونے سے بچانے کے لئے ایئر فورس کے جہاز اور ایئر فورس کے بلٹ پروف ٹرکوں سے اسے ٹرانسپورٹ کریں گے۔ کیا یہ مزاق بنا رکھا ہے۔ کیا ہمیں بے وقوف سمجھا جارہا ہے۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ پوری دنیا میں اتنے بڑے بڑے پیپر ہوتے ہیں، لیکن کیا کہیں سنا ہے کہ ایئر فورس سے انہیں ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے۔ کیا کہیں اس قسم کی نوٹنکی سنی ہے۔ اس حکومت کو صرف اور صرف نوٹنکی کرنی آتی ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم نے کتنا بڑا قدم اٹھالیا ہے۔ پیپر لیک ہونے سے بچانے کے لئے ہم یہ سب کررہے ہیں۔ نظام کو درست کرنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر کوئی اچھی نیت والی حکومت ہوتی، تو وہ دیکھتی کی لیک کہاں سے ہورہا ہے اور پلگ کرتی۔
