Masarrat
Masarrat Urdu

ممتاز شاعر، پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کا طویل علالت کے بعد انتقال

  • 28 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • ادب
Thumb

نئی دہلی، 28 مئی (مسرت ڈاٹ کام) ممتاز شاعر، پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر طویل علالت کے بعد مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں آج انتقال کر گئے۔ پسماندگان میں ان کے دو فرزند نصرت بدر اور معصوم بدر اور ایک دختر ہیں۔ وہ 91 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے ہندوستان اور بیرونِ ملک ادبی حلقوں میں سوگ کی فضا چھاگئی۔

سید محمد بشیرجو بشیر بدر کے نام سے مشہور ہوئے،15 فروری 1935ء کوریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے موضع بکیا میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی۔ اپنی تعلیم اور ملازمت کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مقیم رہے۔ بعد میں میرٹھ میں مقیم رہے۔ بعد ازاں، شہر بھوپال منتقل ہو گئے۔

شاعری سے ان کا تعلق بچپن ہی سے قائم ہو گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا کلام کسی معتبر ادبی جریدے میں شائع ہو اور یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی رسالے “نگار” میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ شیر بدر نے اپنی غزلوں میں نئے دور کے نئے موضوعات، مسائل، افکار و تناظرات سے پنی گہری حسّی، وجدانی، جذباتی اور اور فکری وابستگی کو ایک انوکھے اور دلکش پیرایۂ بیان دے کر اردو غزل میں نئے باب کا اضافہ کیا۔

ڈاکٹر بشیر بدر کچھ عرصہ محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے مگر ان کی اصل پہچان شاعری بنی۔ بعد میں وہ میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے جب کہ زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔

ڈاکٹر بشیر بدر کو حکومت ہند نے ان کی خدمات کے اعتراف مٰیں پدم شری کے خطاب سے نوازا۔ علاوہ ازیں، ان کو ساہتیہ اکیڈمی کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نے بھی ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ بشیر بدر کے کلام کے چھہ مجموعے اکائی، امیج، آمد، آس، آسمان اور آہٹ شائع ہو چکے ہیں، جنھیں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

 

Ads