مسٹر کھرگے نے منگل کے روز سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 26 مئی 2014 کو جب نریندر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، اس وقت انڈین باسٹ کے خام تیل کی قیمت 108.05 ڈالر فی بیرل تھی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی شرحِ مبادلہ 58.59 روپے تھی۔ تب پیٹرول 71.51 روپے اور ڈیزل 56.71 روپے فی لیٹر مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہے، لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 102.12 روپے اور 95.20 روپے فی لیٹر ہو ہوگئی ہے۔ مسٹر کھرگے نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران پیٹرول تقریباً 42.8 فیصد اور ڈیزل تقریباً 67.9 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ٹرانسپورٹ (آمد و رفت)، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ کی ضروریات پر بھی پڑتا ہے، جس سے عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہوا ہے، تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی جا رہی ہیں اور عوام کو راحت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔
