جے رام رمیش نے پیر کے روز کہا کہ حکومت نے اس قانون کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا تھا، لیکن اپوزیشن نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ یہ قانون ’’گیس پیپر‘‘ اور دیگر ذرائع سے ہونے والے پرچہ لیک کو روکنے میں ناکام رہے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ مودی حکومت کا یہ قانون پرچہ لیک روکنے کے لیے کافی نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مرکزی حکومت تعلیم سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے سامنے نیٹ-یو جی 2026 میں پرچہ لیک سے انکار کر رہی ہے، تاہم مبینہ طور پر ’’گیس پیپر‘‘ زیادہ بولی لگانے والوں تک پہنچایا گیا، جس کی بھاری قیمت گزشتہ دو برسوں میں لاکھوں طلبہ کو چکانی پڑی ہے۔
جے رام رمیش نے اس معاملے میں تین اہم مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں وسیع اصلاحات کی جانی چاہئیں، اور عوامی امتحانات کے پورے نظام — سوالیہ پرچہ تیار کرنے سے لے کر جانچ تک کے لیے ایک مکمل محفوظ اور ناقابلِ خرابی نظام تیار کیا جانا چاہیے۔
کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آیا وزیر اعظم طلبہ کے مفاد اور تعلیمی نظام کی ساکھ بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے یا موجودہ صورتِ حال کو جاری رہنے دیں گے۔
