درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل این کے گوسوامی نے پیر کے روز دلیل دی کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ عدلیہ کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ’’اسے اتنی جذباتی انداز میں نہ لیں۔‘‘
ایک اور وکیل نے دلیل دی کہ درخواست گزار جعلی قانون کی ڈگریوں کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں، ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ عدالت میں ہونے والی گفتگو کا تجارتی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس دلیل پر ردِعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ ’’ایسی کوئی سنجیدہ ضرورت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے۔‘‘
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اس ماہ کے آغاز میں ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان، مقبولیت حاصل کی۔ اس تحریک کی شروعات 15 مئی کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہونے والی سماعت سے ہوئی، جس میں چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے بے روزگار نوجوان وکلا کے وکالت چھوڑ کر سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی سرگرمیوں کی طرف رجحان پر تشویش ظاہر کی تھی۔
چیف جسٹس نے تبصرہ کیا تھاکہ ’’ایسے نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں جنہیں اس پیشے میں روزگار نہیں مل رہا۔ کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور کچھ آر ٹی آئی کارکن بن گئے ہیں۔‘‘ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کا تبصرہ جعلی اہلیت اور جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشے میں داخل ہونے والے افراد کے لیے تھا، نہ کہ عمومی طور پر بے روزگار نوجوانوں کے لیے۔
